Umar Farooq 21

ہنسنا شروع کردیں

ہنسنا شروع کردیں
عمرفاروق

“تم ٹھیک کہتے ہو، میرا ماضی میری پریشانیوں’میرے دکھوں کا شاہد ہے’ میری چاروں طرف پریشانیوں’دکھوں’ اور مسائل کا انبار تھا، میں تنہائی پسند تھا، لوگوں کی باتیں مجھے کاٹنے کو دوڑتی تھیں، تم میرا روز کا رونا دھونا سن سن کر تنگ آچکے تھے لیکن اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے، میں اب پریشان ہونے کے بجائے پریشانی کا حل تلاش کرتا ہوں، میں نے رکنے کے بجائے آگے بڑھنے کو اہمیت دینا شروع کردی ہے لہذا اب میں مطمئن ہونا شروع ہوگیا ہوں” میں ان کی باتیں سن کر حیران رہ گیا، یہ ایک ایسے شخص کی باتیں تھیں جو ہر وقت پریشان رہتا تھا، اس کے چہرے پر اداسی چھائی رہتی تھی، اسے مستقبل کی فکر تھی’حال کا غم تھا’ ماضی کا پچھتاوا تھا، وہ بےروزگاری کے ہاتھوں پریشان تھا، اسے لوگوں کے لہجے کاٹنے کو دوڑتے تھے، وہ ہمہ جہت الجھنوں میں دھنسا ہوا تھا، وہ دائیں مرٹا تب پریشان، بائیں مڑتا تب پریشان، اس کے اوپر’ نیچے’ سامنے’پیچھے پریشانیاں ہی پریشانیاں تھیں، دنیا کا ہرانسان پریشان ہوتا ہے سمجھدار لوگ پریشانی کا حل تلاش کرکے آگے نکل جاتے ہیں جبکہ باقی ماندہ جب تک کوئی مسئلہ حل نہ کردے، یا وہ مسئلہ خود بخود حل نہ ہوجائے پریشان اور صرف پریشان ہوتے رہتے ہیں اور یہ شخص بھی ہر وقت پریشان رہتا تھا.
چند ماہ پہلے جو شخص پریشان تھا، پریشانیوں نے اس کے چہرے کا نقشہ بگاڑ رکھا تھا وہی چہرہ آج کھلکھلا رہا تھا وہ چند دوستوں میں بیٹھ کر نا صرف گپیں ہانک رہا تھا بلکہ زوردار قہقہے بھی لگارہا تھا اس کے قہقہوں کی آواز چاروں طرف گھونج رہی تھی، میں نے جب اسے اس حالت میں دیکھا تو خود پریشان ہوگیا، جو شخص تنہائی پسند ہو، جسے لوگ کھانے کو دوڑتے ہوں، جس کے چار اطراف پریشانیوں کا ڈھیر ہو وہ اچانک زوردار قہقہے لگانا شروع کردے اور لوگ اس کے دائیں بائیں بیٹھ کر مسکرارہے ہوں یہ یقینا میرے لئے حیرانگی کی بات تھی، میں ان کے پاس جاکر بیٹھ گیا وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائے، جوابا میں بھی مسکرادیا، میں نے اس سے پہلے ان کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ کبھی نہیں دیکھی تھی، میں نے عرض کی”محترم میں چند ہفتے پہلے آپ کو پریشان اور ہمیشہ کی طرح روتا دھوتا چھوڑ کر گیا تھا، آپ اس دن بھی اپنے دکھ سنانے میں مصروف تھے بلکہ آپ ہمیشہ دکھ سنانے میں ہی مصروف رہتے ہیں لیکن چند ہفتوں بعد آپ برسرروزگار ہیں بلکہ آپ کے اردگرد لوگ بھی موجود ہیں” میں نے حیرانگی سے پوچھا ” یہ سب کیسے ہوا؟ کیا چند ہفتوں میں اتنی بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے؟.
وہ میری طرف دیکھ کر بولے “تم ٹھیک کہتے ہو میرا ماضی ہریشان حال تھا’ میرا حال میرا مستقل اندیشوں میں گھرا ہوا تھا، میرے چاروں طرف پریشانیاں بھی تھیں، میں تنہائی پسند بھی تھا، لوگ مجھ سے نفرت بھی کرتے تھے لیکن اب حالات ویسے نہیں رہے لوگ میرے دوست ہیں، میں قہقہے لگاتا ہوں، کام کرتا ہوں، پریشانی کا نام ونشان تک نہیں” تم جانتے ہو کیوں؟ میں نے سر کو دائیں بائیں حرکت دیتے ہوئے کہا “نہیں”
یہ ایک دو ہفتے پہلے کی بات ہے میں ایک دوکان پر شاپنگ کرنے کیلئے گیا میرا موڈ آف تھا، میں شاپنگ کا سامان ہاتھ میں لئے جونہی کاؤنٹر پر پہنچا وہاں پر موجود لڑکا میری طرف دیکھ کر مسکرایا اور نہایت میٹھے لہجے میں کہنے لگا “سر کبھی مسکرا بھی لیا کریں” اس کا انداز اس قدر خوبصورت تھا کہ میری بےاختیار ہنسی نکل گئی،اس نے جس وقت مجھے یہ کہاں “سر کبھی مسکرا بھی لیا کریں” مجھے محسوس ہوا اس کا شیریں لہجہ میری تمام پریشانیوں پر بھاری پڑگیا ہے، اس کی مسکراہٹ میری دل میں اترگئی ہے، میں سوچنے لگا ایک شخص میری طرف مسکرا کر دیکھتا ہے وہ مجھ سے میٹھے لہجے میں بات کرتا ہے تو اس کی مسکراہٹ اس کا لہجہ مجھے بھی مسکرانے پر مجبور کردیتا ہے، کیا میں کسی سے مسکرا کر یا میٹھے لہجے میں بات کرو تو لوگ بھی مجھ سے مسکرا کر بات نہیں کریں گے؟ کیا ان کا لہجہ ان کا انداز بھی میٹھا نہیں ہوگا؟میں نے اس کے بعد ہر شخص سے مسکرا کر بات کرنا شروع کردی، شروع شروع میں مجھے عجیب سا محسوس ہوتا تھا لیکن پھر مجھے محسوس ہوا لوگ مجھ سے خوش ہوکر بات کرتے ہیں، میرا حلقہ بڑھ رہا ہے، میری پریشانیاں کم ہونے لگی ہیں، مجھے پتا چلا اصل مسئلہ، مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ مسئلے کا حل ہوتا ہے اگر ہمارے پاس حل ہو تو ہم اس مسئلے سے بہت جلد نکل جاتے ہیں جبکہ مسئلے کا حل تلاش کرنے کیلئے ہمارے حواس کا چارج ہونا بہت ضروری ہوتا ہے میں کیوں کہ پریشان رہتا تھا لہذا میرے مسئلے اپنی جگہ قائم تھے، میں ڈپریشن’اینگزائیٹی’ سٹریس کا بھی شکار تھا جو اچھے فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے،مجھے پتا چلا ان سب سے نجات پانے کا سب سے آسان طریقہ ہے ہم ہنسنا شروع کردیں ہنسنا نہ صرف سٹریس’ اینگزائیٹی کو ریلیز کرتا ہے بلکہ یہ سیلز کی ایکٹیویٹی کو ختم کرنے والے نیچرل کلرز کا خاتمہ بھی کرتا ہے، یہ پوزیٹو سوچنے کا عمل تیز کرتا ہے، یہ ڈپریشن’ نیگیٹیو فیلنگز’ ڈر’ غصہ’ اور اعصاب پر قابو پانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، یہ لوگوں کو قریب لیجانے کا ذریعہ بھی ہے چنانچہ میں نے ہنسنا شروع کردیا اس سے میرے دماغ کو ریلیکس کا موقع مل جاتا اور یوں مجھے پریشانی کا حل تلاش کرنے میں آسانی پیدا ہوجاتی اور آج تم دیکھ رہے ہو میرے پاس دوست ہیں، میں بےروزگار بھی نہیں ہوں اور سب سے بڑی کر میں خوش ہوں لہذا ہنسا شروع کردیں کیونکہ پریشان شخص کبھی بھی مسکرا نہیں سکتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں