bell rang 10

اور گھنٹی بج گئی

شناور

تحریر سید صفدر رضا

اور گھنٹی بج گئی

اج کافی عرصہ بعد گیلانی صاحب سے ملاقات ہوئی انکو ہمیشہ بیٹی کو سکول سے بڑی ذمہ داری سے سکول چھو ڑنا اور چھٹی کے وقت گھر لیجاتے دیکھا کرتا تھا۔جب سے زینب والا دل خراش واقعہ ہوا تھا تب سےانھو ں نے پک اینڈ ڈراپ کے لیئے لگی ہوئی وین چھڑوا کر ذمہ داری خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ۔کہنے لگے ماحول تو خراب سے خراب ہوتا جارہا ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی آنکھیں بند کیئے ہوئے ہیں۔پنجاب میں 5ائی جیز تبدیل ہو چکے ہیں۔اب تو عزت بچا کر روکھی سوکھی گھاس پھوس کھاکر گذارا ہوتا ہے۔ مگر مدینے کی ریاست کے اور تبدیلی کے پر کشش نعرے پر موجودہ حکومت کو ووٹ دیکر تسلی ہوئی تھی کہ اب سب پہتر ہوگا مگر کیا بتاؤں اب سمجھ نہیں ارہی۔میں نے موصوف سے بائیک پر آنے کی وجہ پوچھی کہ آپ کی تو گاڑی تھی آپ بائیک پر کیوں ہیں فرمانے لگے شکر پروردگار کا بائیک تو ہے۔گاڑی بیچ کر لی ہے۔بے روزگاری ہے۔گاڑی پر میں کہا کیا وزیراعظم ہاؤس کی پیروی میں گاڑی پیچی ہے کہنے لگے وزیر اعظم ہاؤس کی30 کے قریب گاڑیوں کی نیلامی کا تو بڑا چرچا سنا تھا مگر اب اس حکومت میں خریدی جانے والی 900 سے زائد گاڑیوں کا مسکین عوام کو پتہ ہی نہیں۔جس چیز۔پر حکومت نوٹس لیتی ہے وہ ہی مہنگی ہو جاتی ہے۔اور نایاب بھی ہو جاتی ہے۔ میں نے کہا بقول حکومت کے پجھلی گورنمنٹ نے مصنوعی طور پر ڈالر 105 پر روکا ہوا تھا اب ڈالر کی عزت بحال کر کے بڑی مشکل سے 170 تک پہنچایا ہے شاید اسیلئے تھوڑی مہنگائی ہوئی ہے۔ میرا جملہ سن کر گیلانی صاحب سیخ پا ہو گئے بولے سب دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ان دوسال سے زائد کے عرصہ میں کوئی ایک چیز بتادو جو سستی ہو ئی ہو۔پاس ہی کھڑے ہمدانی صاحب بولے روپیہ پاکستانی کرنسی سستی ہوئی ہے اس وقت خطے کی سب سے سستی کرنسی ہمارے وطن کی ہے یوں پہلے نمبر پر آگئے ہیں اور دوسری چیز عزت اور موت سستی ہوئی ہے۔اڈالر تو اس لیئے مہنگا ہوا ہے کہ باہر سے نوکری کرنے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ انکو تنخواہ ڈالر میں دینی ہوگی۔ابرو ریزی اور خودکشیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہواہے۔اب موٹر ویز جہاں عزت اور جان و مال محفوظ نہیں۔ ٹیکس 100 روپے سے بڑھا کر 350 تک کر دیا گیا ہے۔بجلی کا یونٹ 8 روپے سے بڑھ کر 20 روپے کا ہوگیا ہے جبکے ٹیکسز کی بھرمار علیحدہ۔واپڈا والوں کے بل لیٹ جمع کروانے پر جرمانہ الگ ۔ دو یونٹ زیادہ ہوجانے پر ہزاروں روپے زیادہ بل میٹر ریڈرز کی اپنی مرضی جب چاہیں بغیر بتائے ایوریج بھیج دیں میٹر خراب کا بہانا ۔پیٹرول جس کو سستا کیا تھا تو ملنا ہی بند ہوگیا تھا اب سینچری مکمل کر کے بھی کپتان کی بیٹنگ جاری ہے۔جبکہ سامنے والا کھلاڑی چینی کی سنچری کر کے ریٹائرڈ ہرٹ ہو گیا ہے میدان سے باہر ہے۔گیلانی صاحب بولے پہلے گندم کی بوریاں منگواتے تھے پچھلی گورنمنٹ میں آٹے کا تھیلا لاتے تھے اب آٹا اول ملتا نہیں اگر مل جائے تو شاپر میں لاتے ہیں ۔آٹے سکینڈل والے موج میں ہیں نوٹس لیا کیا کسی کو سزا بھی ہوئی۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود روس سے غیر معیاری گندم امپورٹ کرنا بھی اسی حکومت کا کارنامہ ہے۔ اب جب شاپر میں آتا لایا جاتاہے تو پھر بھی ڈرتے ہیں کوئی لوٹ نہ لےحالانکہ حکومت کا دعویٰ ہے سارے چور لٹیرے بچیں گے نہیں سب جیل میں مقدمات بھگتنے میں مصروف ہیں ایماندار بتائے اب تو بارہ ارب روپے کی روزانہ ہونے والی کریپشن اور چوری بھی نہیں ہو رہی ایماندار حکومت ہے یا شاید ایمانداری کا پیمانہ بدل گیا ہے یہ رقم جو کریپشن کی نظر ہورہی تھی اب 7000سات ہزار ارب سے زائد رقم بنتی ہے پتہ نہیں کہاں ہبیں مرغی انڈے کٹے کی اسکیمز بلکے گندم کی بجائے بھنگ کی کاشت کادرس دیا جارہا ہے تاکہ بھنگ اگا کر بھنگ پی کر عوام مست رہے بھوک نہ لگے بس موجاں آی موجاں۔کپتان کے کھلاڑی نے اپنی دھواں دار بیٹنگ سے صرف چھکے چوکے مار کرادویات کی قیمتوں کی ریکارڈ انگیز کھیل کر پچھلے سب ریکارڈ توڑتے ہوئے 400 فیصد سے زائد کااضافہ کر کے اس بات کا عندیہ دے دیا ہے کہ یہ دوسال کی اننگ ہے اس میں دوگنا سے زائد کا اضافہ ہوسکا اب خود اندازہ لگائیں پانچ سال میں اگر ہونہی بیٹنگ جاری رہی تو پانچ سے چھ گنا زیادہ اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ کیونکہ ڈینٹل ہسپتال پنجاب میں آؤٹ ڈور میں مفت ملنے والی پرچی 50 روپے میں ملے گی۔ پنجاب کے ہسپتالوں میں ہونے والے ٹیسٹ 200 فیصد مہنگے۔ خون کا ٹیسٹ 100 سے 200 ایل ایف ٹی 50 روپے سے 350 سی ٹی سکین 1000روپے سے 2500 روپے کا ہوگیاہے ۔جس پر موصوف فیصل سلطان کا کہنا ہے دوائیں مہنگی نہ کرتے تو جان بچانے والی ادویات غائب ہو جاتیں۔ مہنگی ہونے پر بھی عوام نہ خرید پائے گی ۔ موصوف کا کہنا ہے پرانے فارمولے والی لائف سیونگ ادویات مہنگی کی ہیں۔94 ادویات ملیریا، شوگر، امراض قلب ، بخار، اینٹی بائیوٹکس، فلو، منہ، دانت، کان انفیکشن کی ادویات مہنگی ہونگیں۔ وزیر صحت و مشیر صحت کی کارکردگی پر ایوارڈ تو بنتا ہے۔آب عوام بادلوں کی منتظر ہے میچ کا فیصلہ ہوتا نظر نہیں آرہا ایمپائر ہر گیند پر نوبال کہہ کر فری ہٹ دے ریا ہے۔اتنے میں ایک برقعہ پوش خاتون آگئیی کہنے لگیں میری بچی کی شادی ہے کچھ مدد کر دیں میں نے پوچھا بی بی زیور بنوالیا ہے اس نے حکومت کو ٹھنڈی آہیں بھر کر دعا دیتے ہوئے کہا میرا شوہر باہر نوکری کرتا تھا تبدیلی کے چکر میں واپس آیا تب سے بے روزگار ہے اور رہی زیور کی بات وہ اب بیٹیوں کے نصیب میں کہاں اب سوالاکھ روپے تولا سونا ہے۔ اب تو قبر میں ہی سونا ہے جو اس حکومت کے ہوتے ہوئے مل گئی۔ کیا بتاؤں بھائی جی شوہر میرے بیمار پڑے ہیں ۔ گیس بجلی کے بل پہنچ سے باہر ہیں۔دال روٹی بھی میسر نہیں۔بچوں کی فیس نہ دے سکنے کی وجہ سے گھر بٹھا لیا ہے حکومت کو غریبوں کی کچھ پرواہ نہیں حکومت کرنے والے تو وقت پڑنے پر باہر چلے جاتے ہیں۔جیسے سابقہ مشیر صحت اور زلفی بخاری۔شبر زیدی۔ ہم غریب تو سچے پاکستانی ہیں ہمیں تو یہیں جینا ہے یہیں مرنا ہے۔انکو مانگنے پر لاکھوں مل جاتے ہیں ہمیں تو دوائی بھی ہسپتال سے فری ملنا اس حکومت میں بند ہوگئی ہے۔اس خاتون کی سچی اور دل دہلانے والی باتیں سن کر ہم نے اپنی ضرورتوں کے لیئے رکھی ہوئی مختصر سی رقم خاتون کو تھمائی ہمدانی صاحب اور گیلانی صاحب نے بھی اسکی اعانت کی اور طالب دعا ہوئے وہ خاتون دعا کرتی ہوئی کہ کسی آقا نامدار کے بندے کو حکمرانی ملے جسے قبر اور خدا کا خوف ہوعوام کی تکالیف کو اپنا دکھ سمجھے ۔بھائج جان کفر کی حکومت چل سکتی ہے ظلم کی نہیں۔اتنی دیر میں سکول کی گھنٹی بجی وہ خاتون بولی مجھے لگا حکومت کی گھنٹی بج گئی میں نے ہنستے ہوئے کہا ابھی حکومت کی چھٹی میں کچھ وقت باقی ہے۔ابھی چھٹی کا وقت نہیں ہوا انتظار کرو۔ اور پھر ہم سب اپنے بچوں کو ڈھونڈنے میں مصروف ہو گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں