Tick tock 11

ٹک ٹاک پر حکومتی پابندی

ٹک ٹاک پر حکومتی پابندی
تحریر۔حماد رضا
گزشتہ چند روز سے جو خبر سب سے زیادہ موضوعِ بحث بنی رہی وہ مشہور زمانہ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کے حوالے سے تھی ملک میں بعض حلقے اس ایپ سے متعلق تحفظات کا شکار نظر آتے تھے خصوصاً بعض مذہبی حلقوں کی جانب سے بھی اس ایپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور سوشل میڈیا پر بھی اسی مدّے پر وقتاً فوقتاً بحث زور و شور سے جا ری تھی اس ایپ کو معاشرتی بے راہ روی کا اہم سبب قرار دیا جا رہا تھا جس کا حکومت نے سختی سے نوٹس لیتے ہوۓ اس پرمکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا اس سے پہلے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اس ایپ کو وارننگ دیتے ہوۓ یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس ایپ سے تمام متعلقہ فحش اور غیر اخلاقی مواد کو ہٹا دیا جاۓ لیکن اس وارننگ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا جس پر حکومت کو مجبوراً اس ایپ پر پابندی لگانا پڑی جیسے ہی اس ایپ پر پابندی لگی ایک وسیع حلقے کی جانب سے اس ایپ کی پابندی کا خیر مقدم کیا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جب سے اس ایپ پر پابندی لگی ہے ان کے پیٹ میں مسلسل مروڑ اٹھ رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر لوگ وہ ہی ہیں جو اس ایپ کے ساتھ ڈائریکٹلی یا ان ڈائریکٹلی وابستہ تھے اور وہ اس ایپ کے بند ہونے پر عجیب و غریب منطقیں گھڑ کےسوشل میڈیا پر پیش کر تے نظر آتے ہیں ایسے لوگوں کے خیال کے مطابق اس ایپ کے بند ہونے سے ملکی ٹیلنٹ ضائع ہو نے کا خطرہ ہے اور بہت سارے لوگ جن کا روزگار اس ایپ سے وابستہ تھا وہ ان سے چھن جاۓ گا تو ان لوگوں سے گزارش یہ ہے کہ کیا ان کے نزدیک درخت کے ساتھ الٹا لٹکنا ٹیلنٹ ہے؟ یا مختصر کپڑوں میں ویڈیو اپلوڈ کرنا ٹیلنٹ ہے ؟یا اپنی جینز کو گھٹنوں تک کر کے سڑک پر پلانگیں مارنے کو آپ ٹیلنٹ کہیں گے کیا ایسے لوگوں کو لاہور اور روالپنڈی کے سزا یافتہ گروہ نظر نہیں آتے تھے؟ جو اس ایپ کو اپنا ذریعہ ابلاغ بنا کر اپنے نظریات کی دھڑلے سے ترویج کرتے پھر رہے تھے بعض لوگوں کے نزدیک اس ایپ پر پابندی لگانا اس لیے بھی مناسب نہیں تھا کہ آجکل ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے اور حکومت معلومات کے بہاؤ کو روک کر عوام کو پتھر کے دور میں دھکیلنا چاہتی ہے تو کیا ان لوگو ں کو یہ نظر نہیں آتا کے امریکہ جیسا ترقی یافتہ اور طاقتور ملک پہلے ہی اس ایپ پر پابندی لگا چکا ہے تو کیا وہ پتھر کے دور میں چلا گیا ہے؟ بھارت اس ایپ کو پہلے ہی اپنے ملک کے لیے سیکیورٹی رسک قرار دے چکا ہے اور وہاں بھی اس ایپ پر مکمل پابندی عائد ہے تو کیا بھارت کی ترقی رک چکی ہے ایسے افراد کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں ملک میں تفریح کے نام پر فحاشی کے فروغ کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی میرے حساب سے یہ ایک بہت اچھا اور حکومتی حلقوں کی جانب سے بروقت اقدام ہے میں یہاں یہ نہیں کہہ رہا کے اس ایپ کو کبھی یہاں استعمال ہونے ہی نہیں دینا چاہیے لیکن جب تک مطلوبہ ایپ غیر اخلاقی مواد کے حوالے سے اپنی کوئ واضح ٹھوس پالیسی بنا کر حکومتِ پاکستان سے رابطہ نہیں کرتی تب تک اس ایپ پر مکمل پابندی کو برقرار رکھا جاۓ اس سے پہلے پب جی گیم پر بھی پابندی عائد کی گئ تھی لیکن بالکل تھوڑے عرصے بعد ہی اس سے پابندی ہٹا لی گئ حکومت کو اپنے ان فیصلوں کی مد میں بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور یہ یو ٹرن پالیسی ترک کرنا ہو گی ورنہ کبھی پابندی اٹھانے اور لگانے سے وہ اپنی ساکھ عوام کی نظروں میں یکسر کھو دیں گے اور عوام ایک غیر یقینی کی کیفیت کا شکار رہے گی امید ہے اب کی بار حکومت اس بات کا بھی خیال رکھے گی اور ٹک ٹاک انتظامیہ کی طرف سے مکمل یقین دھانی کی صورت میں ہی پابندی اٹھائ جاۓ گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں