malik mehmood akhutr 15

ذراء سن تو سہی

کہوٹہ کی کرائم ڈائر ی

تحر یر۔ ملک محمو د اختر سے
ذراء سن تو سہی

ضلع را ولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کی عوا م آج بھی تما م تر سہولیا ت سے محروم،سرکا ری اداروں پر کنٹرو ل نہ ہونے کی وجہ سے عوام مسا ئل کے سا تھ سا تھ حکو متی دعوؤ ں سے مایو سی کا شکار،اداروں میں کرپشن روز برو ز بڑھنے لگی،جوکہ ایک سوالیہ نشا ن ہے، سو شل میڈ یا کی وجہ سے اکثر شرفاء کی پگڑیاں اچھلنے لگیں، پروفیشنل صحافیوں کی تذلیل بھی ہونے لگی،پرنٹ میڈ یا اور الیکٹر ونک میڈ یا کے ہاتھ پا ؤ ں باندھنے کی سا زشیں،ضلع را ولپنڈی کی مشہو ر تحصیل کہوٹہ آثا ر قد یمہ کا منظر پیش کرنے لگی، آج کے دور میں بھی اس تحصیل کی عوا م صا ف پا نی سے محروم ہیں، کرو ڑو ں رو پے وا ٹر سپلا ئی سکیم کیلئے منظو ر ہوئے مگر کئی عرصہ سے بھو کے مگر مچھ بغیر منہ ہلا ئے ہضم بھی کر گئے،با ر با ر شکایا ت اور اخباری خبروں کے با وجو د تحقیقا ت نہ ہوسکی، آج اس شہر کا ہر تیسرا آدمی ہیپا ٹا ئٹس، معدے، گردوں اور دن کا مریض بن چکا ہے اسکے علا وہ اس تحصیل کے نوجوانوں کیلئے اچھی یو نیو رسٹی یا کا لج نہ بن سکا،تینو ں سر براہان نے کہوٹہ کا دورہ کیا اور بلند با نگ اعلانا ت کیئے مگر کسی ایک پر بھی عمل درآمد نہ ہوسکا، جبکہ اس حلقے کے ایم این اے شا ہد خاقا ن عبا سی وزیر اعظم پا کستا ن کے عہدے پر فا ئز رہے، کاش اس حلقے کے عوا م کی بد نصیبی یا وزیر اعظم نے جا ن بو جھ کر اپنے وفادار ووٹروں کیلئے کچھ نہ کیا اور آج کہوٹہ کی عوا م گنا گو مسا ئل سے دوچا ر ہیں اب موجودہ حکو مت کے دستے راس ایم این اے جن پر عوا م نے بے حد اعتماد کیا اور انکو کا میا ب کرایا انہوں نے بھی ان وفادار ووٹروں کے سا تھ اچھا سلو ک نہ کیا، اس خطے کے با شعو ر عوا م نے ہر اس امیدوا ر پر مکمل اعتما دکا اظہا ر کیا جس نے سبز با غ دکھا کر عوا م سے بے وفا ئی کا مظا ہر ہ کیا، آج وہ نوجوان جنکو تعلیم حاصل کرنے کا شو ق تھا مگر وسا ئل نہ ہونے کی وجہ سے چورڈاکوبن چکے ہیں اور کچھ ریڑھیا ں لگا کر آلو پیا ز فرو خت کررہے ہیں، بی اے، ایم اے پا س نوجوان قاصد اور نائب قا صد کی خا لی آسا میوں پر نوکریوں کیلئے دھکے کھا رہے ہیں،مگر بڑے بڑے لو گو ں کے ایف اے اور بی اے بچے کمیشن اور بڑ ی بڑی سیٹو ں پر سفا رشوں کے زورپر بیٹھے ہیں، کیا یہ انصا ف ہے؟؟؟؟؟:،کرپشن کا یہ حال ہے کہ محکمہ پو لیس، محکمہ صحت، محکمہ سو ئی گیس، محکمہ جنگلا ت، محکمہ تحفظ الراضیا ت، محکمہ ویٹر نری لا ئیو سٹا ک اور دیگر ادارو ں میں بغیر رشو ت کا م نہیں ہوتا، محکمہ مال جو کہ کر پشن کا با دشا ہ بن چکا ہے،ایک پٹوا ری جس نے ہزارو ں لو گو ں کو عدالتو ں کی نز ر کر دیا، کا غذا ت میں ردبدل، جعلسا زیاں انکے با ئیں ہا تھ کا کھیل ہے، ادارو ں کے سر برا ہ اور ملا زمین اپنی مرضی سے آتے جاتے ہیں، محکمہ ما ل کا یہ حال ہے کہ ایک پلا ٹ کئی کئی مرتبہ فرو خت ہو چکا ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ انتقلا ت کی فیسیں رجسٹر یا ں ہونے پر وصو ل کی جاتی ہیں مگر انتقا ل درج نہیں کیئے جاتے ایک آدمی ایک پلا ٹ کئی کئی مرتبہ فرو خت کرتا ہے رجسٹر ی ہو جاتی ہے، انتقا ل نہیں ہوتا، زمین کاغذا ت میں اسی شخص کے نا م بو لتی ہے، ہسپتا ل کی اگر با ت کریں تو ہسپتا ل کا یہ حال ہے کہ مریضو ں کو صر ف پر چی تھما دی جاتی ہے، پرا ئیو یٹ کلینک مریضو ں کی الٹی کھال ادھڑتے ہیں،ہر محکمہ بے لغام ہو چکاہے،حکو مت تو بڑے بڑے دعوے کرتی ہے مگر انتظا می ادارے صر ف انتقا می کاروا ئیا ں کرتے ہیں،میرٹ پر چیک اینڈ بیلنس کا کو ئی نظا م نہیں،اسکے علا وہ سو شل میڈ یا نے اس ملک کا بیڑہ غر ق کر دیا ہے، ایک آلو پیا ز فرو خت کرنے وا لا اور ایک سینٹر ی ور کر صحافی کا لبا س پہن کر شر فاء کی پگڑیا ں اچھا لتا ہے، انتظا می ادارے اصل صحافیوں کو بعد میں خبر دیتے ہیں اور سو شل میڈ یا کے ایک آلو پیا ز فرو خت کرنے والے کو پہلے خبر دیتے ہیں، باالخصو ص کہوٹہ میں سو شل میڈیا پر جن جہا ز (چرسی)جو سا را دن نشئے میں رہتے ہیں شا م کو خبر لگا کر پو لیس اور دوسرے شر فا ء کو بلیک میل کرکے ما ل کماتے ہیں،ہر دوسرا شخص سو شل میڈیا کا صحافی بن چکا ہے، اصل پرو فیشنل صحافی اس ڈر امے کو دیکھ تشو یش کا اظہا ر کر رہے ہیں کہ ایک نشئی ایک ور کر بڑے بڑے انتظا می اداروں کے سر براہ اور آفیسران کے سا تھ فو ٹو لگا کر محکمو ں کو ڈراتے ہیں اور شر فا ء کو بلیک میل کرتے ہیں، عوامی سما جی صحافتی سیا سی حلقو ں نے اربا ب اختیا ر سے مطا لبہ کیا ہے کہ خداراہ روزنا مے اخبا را ت،ٹی وی کے علا وہ جعلی نا م نہاد صحافیو ں پر پا بندی عائد کی جائے اور کہوٹہ کے مسا ئل کے حل کیلئے اقدامات کیئے جا ئیں سر کاری اداروں سے کر پشن کے خاتمے کیلئے خصو صی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو کہ خفیہ چھاپے ما ر کر انکے خلا ف کا روا ئی کرسکیں، ایم این اے صداقت علی عبا سی، ایم پی اے راجہ صغیر احمد کہوٹہ شہر کے عوا م کو پینے کا صا ف پا نی، علا ج معالجے اور تعلیم کے شعبے میں تبدیلیا ں لا ئیں، عوا م کو صحت تعلیم جیسی بنیا دی سہو لیات مہیا کریں،واٹر سپلا ئی سکیم میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقا ت کرائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں