محمد انور کی کتاب 13

معروف صحافی ،سیدہ بابرہ رضوی مرحومہ کی لکھی کتابوں کی تقریب رونمائی

اسلام آباد معروف صحافی ،سیدہ بابرہ رضوی مرحومہ کی لکھی کتابوں کی تقریب رونمائی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مرحومہ کی صحافتی خدمات کو زبر دست خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہاہے کہ صحافتی ترقی ،بہتری اور شعبہ صحافت سے وابسطہ افراد کی فلاح و بہبود کے لیے نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم سے تمام اہل صحافت کو متحد ہونا ہوگا۔تفصیلات کے مطابق نیشنل پریس کلب کے زیر اہتمام سینئر صحافی سیدہ بابرہ رضوی مرحومہ کی لکھی گئی دو کتابوںٴٴ رخ شناسائیٴٴ اورٴٴ انکشاف ٴٴکی تقریب رونمائیپریس کلب کے مرکزی ہال میں ہوئی۔ تقریب میں بابرہ رضوی مرحومہ کی بہن ملکہ یاسمین رضوی مہمان خصوصی تھیں۔تقریب میں سینئر صحافیوں سی آر شمسی ،فوزیہ شاہد، فریدہ حفیظ، افضل بٹ، پرویزشوکت ،صدر نیشنل پریس کلب شکیل قرار، طارق عثمانی ،سلیم ممتاز، رباب عائشہ، علی شیر،ظفرعلی سپرا،صغیر چودھری،عمرانہ کومل، ڈاکٹر سعدیہ کمال سمیت بڑی تعداد میں صحافی حضرات اور مرحومہ کے رشتہ داروں نے شرکت کی ۔تقریب سے خطاب میں سیدہ ملکہ یاسمین رضوی نے کہا میرے کوئی بہن بھائی نہیں تھے میں بڑی تھی میری ماں نے بابرہ کو میری گود میں ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی بیٹی ہے پھر ساری زندگی میں نے بابرہ رضوی کو بیٹی بنا کر رکھا، ملکہ یاسمین رضوی نے کہا بابرہ رضوی کے کیس میں کینسر کا ایک علاج کرنے والی ڈاکٹر لالچ میں آکر اپنے پیسوں کے لئے اس کا علاج لمبا کرتی چلی گئی ایک دوسری ڈاکٹر تھی جس کا نام ڈاکٹر عائشہ تھاوہ میرے لئے فرشتہ ثابت ہوئیں اس نے اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کی مگر اللہ کو یہی منظور تھا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طارق عثمانی کا کہنا تھاکہ بابرہ رضوی کے ساتھ طویل عرصہ کام کرنے کا موقع ملا ،وہ حساس طبیعت کی حامل پروقار اور سلجھی ہوئی خاتون تھیں ،ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔ علی شیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرحومہ کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور پریس کلب نے بھی مقدور پر تعاون کیا تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ صحافیوں کے لیے متعلقہ اداروں کو اور زیادہ توجہ اور کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔تقریب میں نظامت کے فرائض انجام دینے والی معروف صحافی ڈاکٹر سعدیہ کمال کا کہنا تھا کہ بابرہ رضوی صحافی ہی نہیں صحافت کی تجربہ گاہ تھیں۔سینئر صحافی رباب عائشہ نے کہا نیشنل پریس کلب فوت ہونے والے صحافیوں پر مشتمل کتاب شائع کرے بابرہ رضوی کی کتابوں نے یہ تحریک اور توجہ دی ہے ،سینئر صحافی سی آر شمسی نے کہا کہ بابرہ رضوی کینسر سے دنیا سے چلی گئی ہمیں سوچنا ہوگا ہمارے صحافتی گروپوں کی آپس کی تقسیم سے بابرہ رضوی جیسے کیسز سامنے آرہے ہیں، سلیم ممتاز نے کہا کہ بابرہ ایک ایسی ساتھی تھی جو ایک تحریک تھی سینئر صحافی فریدہ حفیظ نے کہا کہ بابرہ رضوی کے ساتھ انہیں کئی لمبی ملاقاتوں کا موقع ملا۔ وہ خوددار خاتون تھیں۔تقریب کے اختتام پرصدر نیشنل پریس کلب شکیل قرار نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا ، اس موقع پر تقریب میں شرکت کرنے والوں کو دونوں کتابیں تحفہ میں تقسیم کی گئیں جبکہ بعد ازاں مہمانوں کی چائے سے تواضع کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں