شہریار آفریدی

شہریار آفریدی نے اقوام متحدہ، مغربی دنیا کو افغان کیمپوں میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کے خلاف خبردار کردیا

اسلام آباد – ریاستوں اور سرحدی امور کے وزیر (سیفران) شہریار خان آفریدی نے اتوار کے روز کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاون میں پھنسے افغان مہاجرین کے کیمپوں میں خوراک کی کمی کے بارے میں اقوام متحدہ اور مغربی دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ہفتوں سے روزگار سے محروم افغان مہاجرین عالمی امداد کے منتظر ہیں.
شہریار آفریدی نے یہاں افغان کیمپ میں اپنے ذاتی رقم سے افغان مہاجرین کیلئے عطیہ کئے گئے پہلے سینیٹائزر واک تھرو گیٹ کے افتتاح کے موقع صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا.
وزیر سیفران شہریار خان آفریدی نے کہا کہ انہوں نے لاک ڈاؤن کی صورتحال کی وجہ سے کیمپوں میں پھنسے ہوئے افغان مہاجرین کی مدد کے لئے اپنے دوستوں کی مدد سے فنڈز اکٹھے کیے ہیں اور وہ افعان مہاجرین کی مدد کی کوششیں کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی درخواست پر وزیر اعظم عمران خان نے پہلے ہی ملک کو درپیش مالی مشکلات کے باوجود افغان مہاجرین کے لئے خصوصی امدادی پیکج تشکیل دینے کی ہدایت کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان مالی مسائل کے باوجود افغان مہاجرین کے لئے خصوصی امدادی پیکیج تیار کرسکتا ہے تو ترقی یافتہ قومیں محصور پناہ گزینوں کی بازیابی کے لئے کیوں نہیں آسکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی چھتری کے تحت شروع کی گئی جنگ کی وجہ سے افغان مہاجرین ہجرت پر مجبور ہوئے۔ اب انکی امداد کی ذمہ داری بھی اقوام متحدہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی اور ترقی یافتہ ممالک کو ان مہاجرین کی مدد کرناہو گی۔
شہریار آفریدی نے کہا کہ پاکستان مہاجرین کی مدد کے لئے اپنی پوری کوشش کر رہا ہے اس کے باوجود کہ پاکستان مہاجرین اور اس کے پروٹوکول اور اقوام متحدہ کے کنونشن کا دستخط کنندہ نہیں ہے۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے مہاجر ایجنسی ، یو این ایچ سی آر کے پاکستان کے نمائندے کو خط لکھ کر ان سے کہا ہے کہ وہ مہاجر کیمپوں میں محصور افغانوں کو خوراک فراہم کرنے کے لئے فنڈز فوری طور پر ڈائیورٹ کر دیں تاکہ کسی انسانی المئیے سے بچایا جاسکے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ براہ کرم ان افغانوں کو کیمپوں میں خوراک اور راشن بھیجیں جو زیادہ تر روزانہ مزدوری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناکامی کا کوئی آپشن نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یو این ایچ سی آر نے ان کی درخواست پر انتظامی سیل قائم کیا ہے لیکن اب الفاظ کو عملی جامہ میں تبدیل کرنے کی ضرورت تھی۔
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو جنگی بنیادوں پر کھانے کی اشیاء بھیجنے کی ضرورت ہے کیونکہ مہاجرین دو ہفتوں سے بھوکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں